Saturday, 11 October 2014

One Person I'm glad i met (My First Blog)

 انیس ستمبر کی گہری شام چها رہی تھی، میرے سامنے کافی سارے فارم ہاؤس تهے، میں نے ان میں سے ایک فارم ہاؤس میں جانا تها، میں بہت پر جوش تها، کیوں کے آج میں جن سے ملنے جا رہا تها وه قابل تعریف شخصیت ھیں، پاکستان فوج کے سیپہ سالار رھے، پاک فوج کے تھری سٹار ریٹائرڈ جرنیل ہیں، واحد جرنیل ھیں جنہوں نے اپنی آب بیتی اردو زبان میں شایعَ کی، الله نے انکو عزت، شہرت، صحت اور ہر نعمت سے نوازا، میں 12 اکتوبر 1999 کے مارشل لاء کے بعد سے انکو جانتا ھوں مگر انکی کتاب "یہ خاموشی کہاں تک" پڑھنے کے بعد میں نے ان سے ملنے کا ارادہ کیا، ڈھونڈ نے سے تو خدا بھی مل جاتا ھے، کچھ ھی دنوں بعد ان سے ملاقات کا موقعہ مل گیا اور انہوں نے مجھے اپنے فارم ہاوس پہ آنے کی دعوت دی اور آج اسی لیے میں اسلام آباد کے سنگم میں واقعہ فارم ہاوسز میں سے ایک فارم ہاوس میں داخل ہو رہا ھوں ، یہ فارم ہاؤس لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز صاحب (ہلال امتیاز) کا ھے

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز صاحب 30 دسمبر 1949 کو پاکستان کے شہر لاھور میں پیدا ھوے، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور 1969 میں کمیشن پاس کر کے پاکستان آرمی جوایَن کی اور سروسز کے دوران آپ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی (تجزیاتی ونگ), ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، چیف آف جنرل سٹاف پاکستان آرمی اور چیئرمین نیب جیسے آلیَ عہدوں پر فایَز رھے اور 12 اکتوبر 1999 کے مارشل لاء کے بڑے کرداروں میں سے ایک ہیں جب سابق صدر جنرل ریٹارڈ پرویز مشرف صاحب نے ہوائی جہاز اغوا کیس اور بدامنی کی وجہ سے کرپٹ حکومت کا تختہ پلٹہ اور میاں نواز شریف صاحب کو معاہدہ کہ تحت دس سال کے لیے سعودیہ عرب جلا وطن کر دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹایئرڈ شاہد عزیز صاحب اس وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزتھے۔ آپ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے عزیز بھی ھیں مگر آپ کی کتاب سے واضح ھوتا ھے کے سابق صدر جنرل ریٹارڈ پرویز مشرف صاحب کی بہت سی پالیسیوں سے ہمیشہ آپ کا اختلاف رہا اور انھی اختلافات کی وجہ سے بعد میں نیب سے استعفیَ دے دیا۔

شاہد عزیز صاحب کی زندگی کا خلاصہ تو ان کی کتاب سے میں پڑھ ہی چکا تھا جس کے بعد ہی ان سے ملنے کی حسرت پیدا ہوئی مگر میری ان سی ملاقات کا مقصد موجودہ ملکی صورت حال کی راےَ لینا تھی, 12 اکتوبر 1999 کے مارشل لاَ اور نایَن الیون [9/11] کے بعد ملکی حالات ان کی زبانی سننا تھے, یہ ایک حادثاتی ملاقات تھی جو تقریب دو گھنٹے جاری رہی، وہ ملنسار، ہنس مکھ اور زندہ دل انسان ہیں، پڑھنے لکھنے کا بہت شوق رکھتے ہیں اورانٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے اسلامی تعلیمات لے رھے ہیں، ان کی کوشش ھے کہ اپنا زیادہ وقت اپنی عاقبت سنوارنے میں گزاریں، وہ نماز کے پابند ہیں، قرآن پاک کو اردو ترجمہ میں بھی پڑتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی ان کا زیادہ رجحان دین کی طرف ہے اور باقی سب کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں، اپنی زندگی میں اس تبدیلی کی ایک چھوٹی سی وجہ شایَد وہ اپنے ایک عزیز کو قرار دیتے ہیں،  انہوں نے کہا کی میرے ایک عزیز مجھ سے دس سال بعد ملے اور کہا کہ شاہد عزیز صاحب آج بھی آپ ویسے ہیں جیسے دس سال پہلے تھے، اس بات نے مجھے سوچنے پہ مجبور کر دیا کہ آخر اتنے سال بعد بھی مجھ میں کوئی تبدیلی نھیں آیَ ا ور میں نے زندگی کہ دس سال اور نجانے کتنے سال ضایعَ کر دیےَ. بقول ان کہ، کہ انسان کو زندگی میں سیکھتے رہنا چاہئے اور سیکھنے کی کوئی لمٹ نہیں ہونی چاہیے، انسان کو ہمیشہ ایسی سمت اپنانی چاہیےَ جو بہتری اور اچھائی کی طرف لے جائے اور جس سے انسان کا ضمیر، دل و دماغ متمعن ہو اور الله کی ناراضگی کا مرتکب نہ ھو.

میں تہہ دل سے پاکستان آرمی کی عزت کرتا ھوں ، ان کے لاَ آرڈرز اینڈ ڈسپلن کو پسند کرتا ھوں ، اس بات کو ہمیں تسلیم کرنا چاہے کے پاکستان آرمی ہی ھے جس نے اپنی کاوشوں اور قربانیوں سے پاکستان کی عزت کو قایم رکھا، آپ جنگ اور بارڈرز کی سیکورٹی کہ علاوہ نایَن الیون [9/11] کے بعد کے ملکی حالات کا جایزہ لگا لیں، 2005 کا زلزلہ، کراچی، کویَٹہ اور پشاور کے کشیدہ حالات اور سیلابی صورت حال میں پاکستان آرمی کی پرفارمنس دیکھ لیں تو آپ کو ان کی کارکردگی کا اندازہ ہو جاےگا اور بدلہ میں ہم لوگوں اور ہماری میڈیا نے ان کو کیا دیا ؟ کیا ان کی اس پرفارمنس کا صلہ یہ ہونا چاہیے کے آٹھ گھنٹے تک جیونیوز پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کی تصویر لگا کے پوری دنیا کو دکھایا جائے کے ہمارے خفیہ ادارے کا ملک کے اندر کا کردار حامد میر جیسے صحافی پر قاتلانہ حملہ کروانا ہے جب کے دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ھے کے پاکستانی آئی ایس آئی دنیا کا بہترین خفیہ ادارہ ھے. جمہوریت خطرے میں ھو تب بھی آرمی پہ تنقید کی جاتی ھے یا پھر تنقید کی وجہ یہ بھی ھو سکتی ھے کہ ہمارے بیوروکریٹس اور وزیروں کی طرح پاکستان آرمی کہ خلاف کرپشن کے کیس نہیں یا آرمی نے کرپشن کے سکینڈلز میں جمہوریت سے اتحاد نہیں کیا ؟ پارلیمنٹ کہ 342 ارکان میں سے کچھ ایم این اے  وزیر بنتے ہیں جن کہ کرپشن کہ سکینڈل حلف لینے کہ کچھ ہی مدت بعد پوری دنیا دیکھتی ھے، اگر حکومت نے احتساب ہی کرنا ھے تو سٹیل مل کیسز، ایفیڈرین کوٹہ کیس، حج کرپشن کیس، ای او بی آی سکینڈل، رینٹل پاور پروجیکٹس سکینڈل، او جی ڈی سی ایل سکینڈل، ایساف نیٹو کنٹینرز سکینڈل اور این آی سی ایل سکینڈل کے تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور پاکستانی قوم کا لوٹا ھوا پیسہ واپس لایں

پاکستان ہم سب کا ملک ھے، اس کی حفاظت ہم سب پہ لازم ھے، ہمارے بزرگوں اور آرمی نے 1947، 1965 اور 1971 کی جنگ میں جانوں کی قربانیاں دی، اس ملک کی بقا کی خاطر بہت کچھ قربان کیا، بہت قربانیوں کہ بعد پاکستان وجود میں آیا اور آزادی کے بعد مشرقی پاکستان [بنگلہ دیش] ہم سے جدا ھوا جس کا الزام آج بھی پاکستان آرمی کے سر ھے، کیا ہمارے لیڈرز بھول گئے کہ مشرقی پاکستان [بنگلہ دیش] اس وقت آرمی کی سادگی کی وجہ سے ہم سے الگ ہوا یا ہماری اناپرست، وڈیروں اور جاگیرداروں کی جمہوریت کی وجہ سے ؟ ہم کب تک آرمی پہ نتقید کرتے رہیں گے

گیارہ مئی 2013 کے الیکشن تک تو موجودہ حکومت کے جلالی لیڈر سابقہ حکومت کے صدر زرداری صاحب کو علی بابا چالیس چور کہہ کہ مخاطب کرتے رھے، عوام کو دوبارہ بیوقوف بنا کہ بہت سے سبز باغات دکھاےَ، جلسوں میں وعدے کیے کہ ایوان میں پہنچنے کہ بعد اس ملک کا لوٹا پیسہ واپس لایں گے مگر ایوان میں پہنچنے کے بعد پندرہ ماہ میں میٹرو بس کہ علاوہ عوام کو کچھ حاصل نہ ھوا اور جمہوریت کے دعویداروں کو خوف خدا نہ آیا اور نہ ہی ناقص کارکردگی کی وجہ سے غریب عوام کا ڈر یا احساس ہوا اور نہ ھی جمہوریت کا خیال آیا  مگردھاندلی کہ الزامات اور سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد عمران خان صاحب اور قادری صاحب کہ لانگ مارچ کہ پریشر میں آ کر انہی زرداری صاحب کو عرب امارات سے کھانے پہ لاھور بلایا جاتا ہے، ستر ڈشز کا کھانا پیش کیا جاتا ہے اور جمہوریت کے پانچھ سال پورے کرنے اور بہترین حکومت چلانے کا میڈل بھی دیا جاتا ھے ، وزیرآعظم صاحب خود زرداری صاحب کے لیے ڈرایورسیٹ پہ تشریف فرماتے ہیں اور بیوقوف عوام سے کیے گےَ وعدے ایک برا خواب یا جذباتی تقریر سمجھ کہ بھلا دیے جاتے ھیں تا کہ اس جمہوریت کو ہر حال میں قایَم رکھا جاےَ جسکا فایدہَ صرف اور صرف ایوان میں بیٹھے بادشاہوں کو ھے. نون لیگ اگر عمران خان صاحب اور قادری صاحب کہ دھرنے ختم کروانے کہ لئے عوامی نیشنل پارٹی ، جماعت اسلامی، متحدہ قومی مومنٹ، جمیعت علمائے اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی سے اتحاد کر سکتی ھے تو کیا یہی تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان کہ مستقبل کا بہتر فیصلہ نہیں کر سکتی؟ جہاں متحدہ قومی مومنٹ، نون لیگ، پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی ایک کال پہ پورا کراچی، لاہور یا پشاور پہیہ جام ھڑتال کر سکتا ہے تو کیا یہی تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان کے مستقبل کا بہتر فیصلہ نہیں کر سکتی ؟ کیا یہ ایک کال سے عوام کو ایک نہیں کر سکتے تا کہ کسی پنجابی کو پشاور یا کویَٹہ میں خطرہ نہ ھو اور نہ کسی بلوچی کو پنجاب یا سندھ میں، کیا یہ اپنے ذاتی مفادات, ناراضگییاں اور تنقید ختم کر کے ملک کہ لئے کچھ بہتر نہیں کر سکتے ؟ آج بھی محب وطن اور ملک کی خاطر جانیں قربان کرنے والے اس کرپٹ اور اناَ پرست حکومت کی وجہ سے اس حد تک افسردہ اور مایوس ھو گےَ ہیں کہ وہ نیوز چینلز اور اخبار دیکھنا بھی مناسب نہیں سمجتے کیوں کہ ان سے بہتر اس جمہوریت اور جمہوریت کہ دعویداروں کو کوئی نہیں جانتا اور اگر اب بھی ہماری سیاسی جماعتوں نے ہوش کہ ناخن نہ لئے تو 12 اکتوبر 1999 کا واقعہ دوبارہ کسی نہ کسی شکل میں رونما ھو ہی جانا ھے ، عمران خان اور قادری صاحب کہ علاوہ کوئی اور حق مانگنے آ جاےَ گا, کوئی اور ارجمند حسین پیدا ھو جایَگا یا بوٹوں والے بغیر دستک کے پہنچ جاییں گے۔